Skip to main content

Posts

اپنی ٹیچر صائمہ کو چودا

 میرا نام وقاص ہے اور میں 19 سال کا تھا جب میں نے اپنی ٹیچر صائمہ کو چودا تھا۔ جب میں چھوٹا تھا تو استاد صائمہ کی طالبہ تھی۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتی تھی۔ میرے عضو تناسل کا سائز 3 انچ موٹا اور 8 انچ لمبا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ میں عورتوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو بھی پوری خوشی دے سکتا ہوں۔ اب میں آپ کو استاد صائمہ کے بارے میں بتاتا ہوں کہ ان کی عمر 38 سال تھی اور وہ 36 سال کی عمر میں بیوہ ہو گئی تھیں۔ان کے شوہر کا ایک حادثے میں انتقال ہو گیا تھا۔ میڈم کا سائز ایسا تھا کہ اس کے چھاتی 36، کمر 30" اور گدی 40" تھی۔ مطلب وہ مکمل کسبی تھی۔ وہ اپنے گھر میں اکیلی رہتی تھی اور اس کی ایک چھوٹی بیٹی بھی تھی۔ اس کے بال لمبے اور سفید رنگ کے تھے اور وہ باہر زیادہ متحرک نہیں تھی۔ ورنہ لڑکے اور ماموں اسے چودتے۔ ایک دن میں نے ایک گلی میں میڈم کو دیکھا تو وہ مجھے دیکھ کر مسکرا دیں۔ میں بھی اسے میری امی سمجھ کر مسکرا دیا۔ پھر کچھ دنوں کے بعد میں اس سے دوبارہ ملا اور پوچھا۔ امی: بیٹا ان دنوں کیا کر رہے ہو؟ میں نے کہا: امی میں نے یونی میں داخلہ لے لیا ہے۔ اور میں صرف فزکس کر رہا ہوں۔ امی نے کہا: اگر تم...

اعتماد اور محبت کی بنیاد

  جسمانی تعلق کا آغاز اعتماد اور دل سے محبت پر ہوتا ہے۔ بیوی یا شوہر کی رضامندی، احساسات اور جذبات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ جب دل میں ایک دوسرے کے لیے عزت اور محبت ہوگی، تو جسمانی تعلق بھی خوبصورت اور روحانی بن جائے گا۔ 🌙 2. صاف ستھری گفتگو اور کھل کر بات چیت ایک دوسرے سے کھل کر بات کریں کہ کونسی چیز پسند ہے اور کونسی نہیں۔ جسمانی تعلقات پر بات کرنا شرم کی بات نہیں، بلکہ ازدواجی زندگی کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔ 💧 3. صفائی اور خوشبو کا خیال مرد اور عورت دونوں اپنی جسمانی صفائی، خوشبو، اور لباس کا خاص خیال رکھیں۔ خوشبودار جسم اور خوبصورت لباس تعلق کو مزید پرکشش بناتا ہے۔ 💑 4. پیش قدمی میں نرمی جسمانی تعلق صرف جسم کا ملاپ نہیں، بلکہ جذبات کا اشتراک ہے۔ محبت بھرے الفاظ، پیار سے چھونا، اور آہستہ آہستہ ماحول بنانا بہت اہم ہے۔ 💞 5. دونوں کی رضامندی ضروری اگر کوئی تھکا ہوا یا دل سے تیار نہ ہو تو زبردستی نہ کریں۔ بہترین تعلق وہی ہوتا ہے جو دونوں کی خوشی سے ہو۔ 🌸 6. وقت نکالنا اور ماحول بنانا ایک دوسرے کے لیے وقت نکالیں، بچوں یا کاموں ...

علم کی روشنی

  تھی جو گاؤں میں سکھایا جا سکتا تھا۔ استادہ فوزیہ کہہ چکی تھیں: "نائلہ، اب تمہیں شہر جانا ہوگا۔ میٹرک کے بعد تعلیم کا اصل میدان وہاں ہے۔" یہ جملہ سنتے ہی نائلہ کے دل میں جیسے بادل چھا گئے ہوں۔ وہ جانتی تھی، باپ کبھی اجازت نہ دے گا۔ گاؤں کی لڑکیاں شہر نہیں جاتیں — وہ صرف بیاہی جاتی ہیں۔ اُسی رات جب چولہا بجھا، اور گھر میں خاموشی چھا گئی، نائلہ نے ماں سے بات کی۔ "امی، اگر میں شہر جاؤں، اکیلی، تو آپ ساتھ دیں گی؟" رابعہ بی بی نے لرزتی آواز میں کہا: "بیٹی، ماں ساتھ ہوتی ہے، چاہے جسم کے ساتھ ہو یا دعا کے ساتھ۔ لیکن یہ راستہ کانٹوں سے بھرا ہے۔" نائلہ نے آہستہ سے کہا: "امی، اگر میں نے یہ فیصلہ نہ کیا تو ساری عمر صرف روٹی، کپڑے، اور تقدیر کے آگے ہاتھ پھیلاؤں گی۔ میں اپنے لیے جینا چاہتی ہوں۔" 🧓 منظور کا انکار اگلی صبح نائلہ نے ہمت کر کے منظور سے بات کی۔ "ابا جی، میں شہر جانا چاہتی ہوں، کالج پڑھنے۔ فوزیہ استانی کے رشتہ دار ہیں وہاں، اُن کے ہاں رہ سکتی ہوں۔" منظور نے جیسے کوئی زہر پی لیا ہو۔ "پاگل ہو گئی ہو؟ لڑکیاں اکیلی شہر ن...

ایک نیکیخاک کی گڑیا

 گاؤں کی اس چھوٹی سی کچی گلی میں، جہاں مٹی کے ذروں سے خوابوں کی گرد اُڑتی تھی، وہ ایک چھوٹی سی لڑکی روز کھڑکی سے باہر جھانکتی۔ نائلہ کی عمر بمشکل دس سال تھی، مگر اُس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو شاید ہی کسی اور بچے میں نظر آتی۔ ان آنکھوں نے کبھی کتاب نہیں دیکھی تھی، صرف ماں کے ہاتھوں کی جھلک، اور باپ کے ڈر کا عکس دیکھا تھا۔ اس کے چھوٹے چھوٹے پاؤں ہر روز دریا کے کنارے کیچڑ میں کھیلتے، مگر دل میں خواہش تھی کہ وہ کسی دن کسی ایسی دنیا میں چلی جائے جہاں صرف علم ہو، آزادی ہو، اور احترام ہو۔ نائلہ کی ماں، رابعہ بی بی، ایک نہایت سادہ، صابر عورت تھی۔ اُس کا شوہر، منظور، گاؤں کے بڑے زمیندار کے ہاں کام کرتا تھا۔ وہ سخت مزاج، دیندار، مگر عورتوں کی تعلیم کے سخت خلاف تھا۔ نائلہ کو پڑھانے کی بات آتی تو اُس کا چہرہ انگاروں جیسا سرخ ہو جاتا۔ "بیٹیاں قلم نہیں پکڑتیں، چولہا چلاتی ہیں!" یہ اُس کا مشہور جملہ تھا۔ لیکن نائلہ کو کتابوں سے محبت ہو گئی تھی — اس کی ایک وجہ استادہ فوزیہ تھیں، جو گاؤں کی ایک چھوٹی سی سرکاری پرائمری اسکول میں پڑھاتی تھیں۔ وہ نائلہ کو اکثر اسکول جاتے دیکھتیں...