Skip to main content

علم کی روشنی

 

تھی جو گاؤں میں سکھایا جا سکتا تھا۔ استادہ فوزیہ کہہ چکی تھیں:
"نائلہ، اب تمہیں شہر جانا ہوگا۔ میٹرک کے بعد تعلیم کا اصل میدان وہاں ہے۔"

یہ جملہ سنتے ہی نائلہ کے دل میں جیسے بادل چھا گئے ہوں۔ وہ جانتی تھی، باپ کبھی اجازت نہ دے گا۔ گاؤں کی لڑکیاں شہر نہیں جاتیں — وہ صرف بیاہی جاتی ہیں۔

اُسی رات جب چولہا بجھا، اور گھر میں خاموشی چھا گئی، نائلہ نے ماں سے بات کی۔
"امی، اگر میں شہر جاؤں، اکیلی، تو آپ ساتھ دیں گی؟"

رابعہ بی بی نے لرزتی آواز میں کہا:
"بیٹی، ماں ساتھ ہوتی ہے، چاہے جسم کے ساتھ ہو یا دعا کے ساتھ۔ لیکن یہ راستہ کانٹوں سے بھرا ہے۔"

نائلہ نے آہستہ سے کہا:
"امی، اگر میں نے یہ فیصلہ نہ کیا تو ساری عمر صرف روٹی، کپڑے، اور تقدیر کے آگے ہاتھ پھیلاؤں گی۔ میں اپنے لیے جینا چاہتی ہوں۔"


🧓 منظور کا انکار

اگلی صبح نائلہ نے ہمت کر کے منظور سے بات کی۔
"ابا جی، میں شہر جانا چاہتی ہوں، کالج پڑھنے۔ فوزیہ استانی کے رشتہ دار ہیں وہاں، اُن کے ہاں رہ سکتی ہوں۔"

منظور نے جیسے کوئی زہر پی لیا ہو۔
"پاگل ہو گئی ہو؟ لڑکیاں اکیلی شہر نہیں جاتیں۔ لوگ کیا کہیں گے؟"

نائلہ خاموش رہی۔ لیکن اُس کی خاموشی میں ایک بغاوت چھپی تھی۔ یہ پہلی بار تھا کہ اُس نے "ہاں ابا جی" نہیں کہا تھا۔

اُس رات رابعہ بی بی نے منظور سے آہستہ سے کہا:
"اسے مت روکیے، منظور۔ یہ وہ بیٹی ہے جو آپ کا نام روشن کرے گی۔ اگر اس کا نصیب روشن ہو تو کیوں اسے اندھیرے میں دھکیلیں؟"

منظور خاموش ہو گیا، گہری سانس لی، اور بولا:
"ایک شرط پر۔ اگر کبھی عزت پر حرف آیا، تو نام سے بھی انکار کر دوں گا!"


🧳 روانگی

چند دن بعد، فوزیہ استانی کے رشتہ دار لاہور سے آ گئے۔ وہ سیدھے سادے، باوقار لوگ تھے۔ نائلہ نے ماں کے ہاتھ چومے، باپ کے قدموں میں سر رکھا، اور آنکھوں میں خواب لے کر روانہ ہو گئی۔

گاؤں کی گلیاں اُس دن سونی لگ رہی تھیں، جیسے کسی چراغ کی روشنی اُجالے کی طرف نکل گئی ہو۔


🔚 باب 3 کا اختتام:

ٹرین کی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے نائلہ نے خود سے کہا:
"آج میں صرف سفر نہیں کر رہی… میں خود کو ڈھونڈنے نکلی ہوں۔"

ٹرین نے سیٹی دی، دھواں اڑایا، اور نائلہ کو ایک نئی دنیا کی طرف لے گئی۔


🔜 باب 4: شہر کی دیواریں

لاہور کی گہما گہمی، ہوسٹل کی زندگی، اجنبی چہرے، پہلا دن کالج کا، اور وہ پہلا شخص… جس کی باتوں میں مٹھاس تو تھی، مگر نظر میں چھپا ایک راز بھی۔

Comments

Popular posts from this blog

pyar ke peli bona maza a jya uffff

 میرے کمرے میں ایک پرانا کمپیوٹر رکھا تھا، جس پر میں اکثر وقت گزارتا۔ وہی کمپیوٹر میری زندگی میں ایک نیا رنگ لے کر آیا، جب میں نے پہلی بار "آن لائن اردو شاعری" کے ایک گروپ میں ماہ نور سے بات کی۔ ماہ نور، ایک نرم دل اور خوبصورت سوچ رکھنے والی لڑکی تھی۔ ہماری گفتگو شاعری سے شروع ہوئی اور پھر دل کی باتوں تک جا پہنچی۔ دن بہ دن، ہم ایک دوسرے کے اتنے قریب آ گئے جیسے کمپیوٹر کی اسکرین کے دونوں طرف دو روحیں جُڑ گئی ہوں۔ ایک دن اُس نے کہا: "کاش تم میرے ساتھ کسی خوبصورت جگہ جا سکتے، جیسے کوئی جھرنے والا پہاڑی مقام، جہاں صرف تم، میں اور خاموشی ہو۔" یہ خواہش میرے دل میں بسی رہی۔ مہینوں بعد، جب ہم نے آخرکار ایک دوسرے سے ملاقات کا فیصلہ کیا، ہم مری کے ایک واٹر فال پر گئے۔ وہ لمحہ جب پانی کی بوندیں ہمارے چہروں کو چھو رہی تھیں، اور ہم ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے — وہ لمحہ جیسے وقت تھم گیا ہو۔ ماہ نور نے میرے کان میں آہستہ سے کہا: "پیار کبھی نظر سے نہیں، دل سے محسوس ہوتا ہے۔ تم میرے دل کے سب سے خوبصورت کونے میں ہو۔" میں نے اُس کا ہاتھ تھام لیا، اور بس....

hot sali ke chut mari

 میرا نام وحیدہ ہے اور میری عمر 24 سال ہے۔ میری شادی اس وقت ہوئی جب میں 19 سال کا تھا۔ اس وقت میرے شوہر کی عمر 25 سال تھی۔ وہ مجھ سے 6 سال بڑا تھا۔ میں نے اپنی شادی کی پہلی رات اپنے شوہر کے ساتھ منائی۔ چند ماہ بعد میں نے بچہ پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وقت گزر گیا۔ ہر کوئی مجھ پر اولاد نہ ہونے کا الزام لگاتا ہے۔ پھر ایک دن میں ایک بڑے ہسپتال گئی جہاں مجھے معلوم ہوا کہ میرا شوہر کبھی باپ نہیں بن سکتا۔ گھر میں جب یہ بات سامنے آئی تو سب حیران رہ گئے۔ اب اگر یہ بات باہر سامنے آتی تو بے عزتی ہوتی، اسی لیے سب نے اس بات کو چھپایا۔ ایک رات میری ساس میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں، "دیکھو بہو، تم بچے کو جنم دے سکتی ہو، ٹھیک ہے، پھر تم اسے اپنے جیٹ سے اس دنیا میں کیوں نہیں لاتی، باقی بچہ تمہارا اور تمہارے شوہر کا ہی ہوگا، گھر کا معاملہ گھر میں ہی حل ہو جائے تو اچھا ہے۔" یہ سب کوئی نئی بات نہیں تھی۔ یہ سب گاؤں میں گھر کے اندر ہوا کرتا تھا۔ تو میں راضی ہوگیا۔ لیکن مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا۔ میرے بہنوئی مجھ سے دس سال بڑے تھے۔ وہ 34 سال کا تھا اور میں 24 سال کا تھا۔ ا...

ایک نرم اور خوبصورت ہاتھ میرے عضو تناسل کو سہلا رہا تھا۔

 اس دن میں اپنی راشی دیدی کے لیے سالگرہ کا تحفہ لانا بھول گیا تھا۔ اور جب میں شام کو دفتر سے واپس آیا تو راشی دیدی چمکدار سرخ رنگ کی ساڑھی میں کسی اپسرا کی طرح لگ رہی تھیں۔ وہ بھاگی اور مجھے گلے لگا لیا۔ اور اس کے خوبصورت نوکیلے چھاتی میرے سینے سے دبانے لگے۔ میرا عضو تناسل کھڑا ہو گیا، لیکن ماں اور والد صاحب وہاں موجود تھے۔ میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے راشی سے کہا کہ میں تحفہ لانا بھول گیا ہوں۔ میں نے اس سے وعدہ بھی کیا کہ بدلے میں وہ مجھ سے جو چاہے مانگ سکتی ہے۔ اور میں اسے کبھی بھی تحفہ دینے سے انکار نہیں کروں گا۔ اگلے دن مجھے موسا جی کی موت کی خبر ملی اور ممی پاپا وارانسی روانہ ہو گئے۔ گھر میں صرف راشی دیدی اور میں رہ گئے تھے۔ راشی دیدی ہمیشہ اپنے بستر پر ممی کے ساتھ سوتی تھیں۔ لیکن آج وہ کمرے میں اکیلی سونے جا رہی تھی۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد میں اپنے بستر پر جا کر سو گیا۔ کچھ دیر بعد راشی دیدی میرے کمرے میں آئی اور کہنے لگی۔ راشی: بھیا، مجھے ممی کے بغیر ڈر لگتا ہے۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو کیا میں آج آپ کے ساتھ سو سکتا ہوں؟ کچھ دیر سوچنے کے بعد میں نے کہا ہاں۔ راشی دیدی سرخ رن...