Skip to main content

ایک نیکیخاک کی گڑیا

 گاؤں کی اس چھوٹی سی کچی گلی میں، جہاں مٹی کے ذروں سے خوابوں کی گرد اُڑتی تھی، وہ ایک چھوٹی سی لڑکی روز کھڑکی سے باہر جھانکتی۔ نائلہ کی عمر بمشکل دس سال تھی، مگر اُس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو شاید ہی کسی اور بچے میں نظر آتی۔

ان آنکھوں نے کبھی کتاب نہیں دیکھی تھی، صرف ماں کے ہاتھوں کی جھلک، اور باپ کے ڈر کا عکس دیکھا تھا۔ اس کے چھوٹے چھوٹے پاؤں ہر روز دریا کے کنارے کیچڑ میں کھیلتے، مگر دل میں خواہش تھی کہ وہ کسی دن کسی ایسی دنیا میں چلی جائے جہاں صرف علم ہو، آزادی ہو، اور احترام ہو۔

نائلہ کی ماں، رابعہ بی بی، ایک نہایت سادہ، صابر عورت تھی۔ اُس کا شوہر، منظور، گاؤں کے بڑے زمیندار کے ہاں کام کرتا تھا۔ وہ سخت مزاج، دیندار، مگر عورتوں کی تعلیم کے سخت خلاف تھا۔ نائلہ کو پڑھانے کی بات آتی تو اُس کا چہرہ انگاروں جیسا سرخ ہو جاتا۔

"بیٹیاں قلم نہیں پکڑتیں، چولہا چلاتی ہیں!"
یہ اُس کا مشہور جملہ تھا۔

لیکن نائلہ کو کتابوں سے محبت ہو گئی تھی — اس کی ایک وجہ استادہ فوزیہ تھیں، جو گاؤں کی ایک چھوٹی سی سرکاری پرائمری اسکول میں پڑھاتی تھیں۔ وہ نائلہ کو اکثر اسکول جاتے دیکھتیں تو پیار سے کہتیں،
"بیٹا، علم وہ چراغ ہے جو تقدیر بدل دیتا ہے۔ تمہیں ضرور پڑھنا چاہیے۔"

ایک دن، استادہ فوزیہ، رابعہ بی بی کے گھر آئیں۔
"باجی، اگر آپ اجازت دیں تو میں نائلہ کو شام کے وقت پڑھا سکتی ہوں۔ بغیر کسی فیس کے۔"
رابعہ بی بی کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔ "میری بچی بھی پڑھ لکھ جائے… اللہ آپ کو جزا دے۔"

منظور کو یہ بات پسند نہ آئی، مگر فوزیہ نے نہایت عقلمندی سے بات کی،
"بھائی منظور، بچی کو دین کی تعلیم بھی دوں گی، اور دنیا کی بھی۔ وہ آپ کا نام روشن کرے گی۔"

منظور نے مشروط اجازت دی،
"اگر کوئی دن اس نے گھر کا کام چھوڑا تو بس، تعلیم ختم!"


Comments

Popular posts from this blog

ایک نرم اور خوبصورت ہاتھ میرے عضو تناسل کو سہلا رہا تھا۔

 اس دن میں اپنی راشی دیدی کے لیے سالگرہ کا تحفہ لانا بھول گیا تھا۔ اور جب میں شام کو دفتر سے واپس آیا تو راشی دیدی چمکدار سرخ رنگ کی ساڑھی میں کسی اپسرا کی طرح لگ رہی تھیں۔ وہ بھاگی اور مجھے گلے لگا لیا۔ اور اس کے خوبصورت نوکیلے چھاتی میرے سینے سے دبانے لگے۔ میرا عضو تناسل کھڑا ہو گیا، لیکن ماں اور والد صاحب وہاں موجود تھے۔ میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے راشی سے کہا کہ میں تحفہ لانا بھول گیا ہوں۔ میں نے اس سے وعدہ بھی کیا کہ بدلے میں وہ مجھ سے جو چاہے مانگ سکتی ہے۔ اور میں اسے کبھی بھی تحفہ دینے سے انکار نہیں کروں گا۔ اگلے دن مجھے موسا جی کی موت کی خبر ملی اور ممی پاپا وارانسی روانہ ہو گئے۔ گھر میں صرف راشی دیدی اور میں رہ گئے تھے۔ راشی دیدی ہمیشہ اپنے بستر پر ممی کے ساتھ سوتی تھیں۔ لیکن آج وہ کمرے میں اکیلی سونے جا رہی تھی۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد میں اپنے بستر پر جا کر سو گیا۔ کچھ دیر بعد راشی دیدی میرے کمرے میں آئی اور کہنے لگی۔ راشی: بھیا، مجھے ممی کے بغیر ڈر لگتا ہے۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو کیا میں آج آپ کے ساتھ سو سکتا ہوں؟ کچھ دیر سوچنے کے بعد میں نے کہا ہاں۔ راشی دیدی سرخ رن...

اپنی ٹیچر صائمہ کو چودا

 میرا نام وقاص ہے اور میں 19 سال کا تھا جب میں نے اپنی ٹیچر صائمہ کو چودا تھا۔ جب میں چھوٹا تھا تو استاد صائمہ کی طالبہ تھی۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتی تھی۔ میرے عضو تناسل کا سائز 3 انچ موٹا اور 8 انچ لمبا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ میں عورتوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو بھی پوری خوشی دے سکتا ہوں۔ اب میں آپ کو استاد صائمہ کے بارے میں بتاتا ہوں کہ ان کی عمر 38 سال تھی اور وہ 36 سال کی عمر میں بیوہ ہو گئی تھیں۔ان کے شوہر کا ایک حادثے میں انتقال ہو گیا تھا۔ میڈم کا سائز ایسا تھا کہ اس کے چھاتی 36، کمر 30" اور گدی 40" تھی۔ مطلب وہ مکمل کسبی تھی۔ وہ اپنے گھر میں اکیلی رہتی تھی اور اس کی ایک چھوٹی بیٹی بھی تھی۔ اس کے بال لمبے اور سفید رنگ کے تھے اور وہ باہر زیادہ متحرک نہیں تھی۔ ورنہ لڑکے اور ماموں اسے چودتے۔ ایک دن میں نے ایک گلی میں میڈم کو دیکھا تو وہ مجھے دیکھ کر مسکرا دیں۔ میں بھی اسے میری امی سمجھ کر مسکرا دیا۔ پھر کچھ دنوں کے بعد میں اس سے دوبارہ ملا اور پوچھا۔ امی: بیٹا ان دنوں کیا کر رہے ہو؟ میں نے کہا: امی میں نے یونی میں داخلہ لے لیا ہے۔ اور میں صرف فزکس کر رہا ہوں۔ امی نے کہا: اگر تم...

pyar ke peli bona maza a jya uffff

 میرے کمرے میں ایک پرانا کمپیوٹر رکھا تھا، جس پر میں اکثر وقت گزارتا۔ وہی کمپیوٹر میری زندگی میں ایک نیا رنگ لے کر آیا، جب میں نے پہلی بار "آن لائن اردو شاعری" کے ایک گروپ میں ماہ نور سے بات کی۔ ماہ نور، ایک نرم دل اور خوبصورت سوچ رکھنے والی لڑکی تھی۔ ہماری گفتگو شاعری سے شروع ہوئی اور پھر دل کی باتوں تک جا پہنچی۔ دن بہ دن، ہم ایک دوسرے کے اتنے قریب آ گئے جیسے کمپیوٹر کی اسکرین کے دونوں طرف دو روحیں جُڑ گئی ہوں۔ ایک دن اُس نے کہا: "کاش تم میرے ساتھ کسی خوبصورت جگہ جا سکتے، جیسے کوئی جھرنے والا پہاڑی مقام، جہاں صرف تم، میں اور خاموشی ہو۔" یہ خواہش میرے دل میں بسی رہی۔ مہینوں بعد، جب ہم نے آخرکار ایک دوسرے سے ملاقات کا فیصلہ کیا، ہم مری کے ایک واٹر فال پر گئے۔ وہ لمحہ جب پانی کی بوندیں ہمارے چہروں کو چھو رہی تھیں، اور ہم ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے — وہ لمحہ جیسے وقت تھم گیا ہو۔ ماہ نور نے میرے کان میں آہستہ سے کہا: "پیار کبھی نظر سے نہیں، دل سے محسوس ہوتا ہے۔ تم میرے دل کے سب سے خوبصورت کونے میں ہو۔" میں نے اُس کا ہاتھ تھام لیا، اور بس....