میرے کمرے میں ایک پرانا کمپیوٹر رکھا تھا، جس پر میں اکثر وقت گزارتا۔ وہی کمپیوٹر میری زندگی میں ایک نیا رنگ لے کر آیا، جب میں نے پہلی بار "آن لائن اردو شاعری" کے ایک گروپ میں ماہ نور سے بات کی۔ ماہ نور، ایک نرم دل اور خوبصورت سوچ رکھنے والی لڑکی تھی۔ ہماری گفتگو شاعری سے شروع ہوئی اور پھر دل کی باتوں تک جا پہنچی۔ دن بہ دن، ہم ایک دوسرے کے اتنے قریب آ گئے جیسے کمپیوٹر کی اسکرین کے دونوں طرف دو روحیں جُڑ گئی ہوں۔ ایک دن اُس نے کہا: "کاش تم میرے ساتھ کسی خوبصورت جگہ جا سکتے، جیسے کوئی جھرنے والا پہاڑی مقام، جہاں صرف تم، میں اور خاموشی ہو۔" یہ خواہش میرے دل میں بسی رہی۔ مہینوں بعد، جب ہم نے آخرکار ایک دوسرے سے ملاقات کا فیصلہ کیا، ہم مری کے ایک واٹر فال پر گئے۔ وہ لمحہ جب پانی کی بوندیں ہمارے چہروں کو چھو رہی تھیں، اور ہم ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے — وہ لمحہ جیسے وقت تھم گیا ہو۔ ماہ نور نے میرے کان میں آہستہ سے کہا: "پیار کبھی نظر سے نہیں، دل سے محسوس ہوتا ہے۔ تم میرے دل کے سب سے خوبصورت کونے میں ہو۔" میں نے اُس کا ہاتھ تھام لیا، اور بس....
میرا نام وحیدہ ہے اور میری عمر 24 سال ہے۔ میری شادی اس وقت ہوئی جب میں 19 سال کا تھا۔ اس وقت میرے شوہر کی عمر 25 سال تھی۔ وہ مجھ سے 6 سال بڑا تھا۔ میں نے اپنی شادی کی پہلی رات اپنے شوہر کے ساتھ منائی۔ چند ماہ بعد میں نے بچہ پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وقت گزر گیا۔ ہر کوئی مجھ پر اولاد نہ ہونے کا الزام لگاتا ہے۔ پھر ایک دن میں ایک بڑے ہسپتال گئی جہاں مجھے معلوم ہوا کہ میرا شوہر کبھی باپ نہیں بن سکتا۔ گھر میں جب یہ بات سامنے آئی تو سب حیران رہ گئے۔ اب اگر یہ بات باہر سامنے آتی تو بے عزتی ہوتی، اسی لیے سب نے اس بات کو چھپایا۔ ایک رات میری ساس میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں، "دیکھو بہو، تم بچے کو جنم دے سکتی ہو، ٹھیک ہے، پھر تم اسے اپنے جیٹ سے اس دنیا میں کیوں نہیں لاتی، باقی بچہ تمہارا اور تمہارے شوہر کا ہی ہوگا، گھر کا معاملہ گھر میں ہی حل ہو جائے تو اچھا ہے۔" یہ سب کوئی نئی بات نہیں تھی۔ یہ سب گاؤں میں گھر کے اندر ہوا کرتا تھا۔ تو میں راضی ہوگیا۔ لیکن مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا۔ میرے بہنوئی مجھ سے دس سال بڑے تھے۔ وہ 34 سال کا تھا اور میں 24 سال کا تھا۔ ا...